تُم کاٹو گے
میرے راستے کو
تمھارے پاس کالی بلی بھی نہیں
کہاں سے
نحوست کے آکٹوپس
روایات کی زنجیریں لے آئے ہو
میں صدیوں سے
آنسوؤں کے سمندر پہ بہہ رہی ہوں
مجھے خوابوں کی سبز ڈولی میں
بٹھا کر
فروخت کیا جاتا ہے
کبھی گندے ہاتھوں سے
میرے حْسن کی توہین ہوتی ہے
کبھی بانجھ مرد کی بے ثمر ساعتوں سے
سمجھوتہ کرتی ہوں
کبھی اکلاپے سے لپٹ کر جاگتی ہوں
کبھی شوہر کی غیر موجودگی میں
رات کے دروازے پہ کھڑے
بہکے سایوں کی دستک سنتی ہوں
غیرت کے باعث قتل
میرے شناختی کارڈ کا علامتی نشان ہے
میں کبھی بدتمیز ہوں
کبھی لادین
جسے ہجوم کی چیخ پکار
ایک فتوے کی روشنی میں بْجھا سکتی ہے
مجھے جاہل رکھنے
بوجھ سمجھنے والو!
میں تمھاری بیراہ روی کی خوراک نہیں ہوں
تْم مجھے عورت کی بجائے انسان
محبت کی نظر سے دیکھنا
کب شروع کرو گے؟؟
